نواز شریف: جنرل قمر باجوہ پر ن لیگ حکومت کو ’رخصت‘ کرانے، عمران خان کی حکومت کے لیے ’جوڑ توڑ‘ کرنے کے الزامات

جلسہ

گوجرانوالہ میں ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسے سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف نے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر اپنی حکومت کو 'رخصت' کرانے اور عمران خان کی حکومت کو برسراقتدار لانے کے لیے 'جوڑ توڑ' کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

نواز شریف نے اپنے خطاب کے دوران ملکی حالات پر بات کرتے ہوئے اور گذشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات دہراتے ہوئے پاکستان فوج کے سربراہ کو ذمہ دار ٹھہرایا اور سوال کیا کہ سویلین حکومتوں کو ان کی مدت مکمل کرنے کیوں نہیں دی جاتی۔

نواز شریف پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے سیاسی اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حکومت مخالف تحریک کے گوجرانوالہ میں ہونے والے پہلے جلسے سے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کر رہے تھے۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حکومت کے خلاف اعلان کردہ تحریک کا پہلا جلسہ گوجرانوالہ کے جناح سٹیڈیم میں منعقد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات سوا گیارہ بجے نواز شریف نے لندن سے اپنی تقریر میں ملک میں مہنگائی، ترقیاتی منصوبوں، سول ملٹری تعلقات، انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور سیاستدانوں کو ’غدار‘ کہلائے جانے جیسے مختلف موضوعات پر بات کی۔

خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ میری آواز عوام تک نہ پہنچے اور ان کی آواز مجھ تک نہ پہنچے، لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔'

نواز شریف نے اپنی تقریر کے ابتدائی حصے میں سوالیہ انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے 'سنا ہے' کہ پاکستان میں مہنگائی ہے اور وہ عوام سے جاننا چاہتے ہیں کہ ان کا کیا حال ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ پچاس لاکھ گھر دیے جائیں گے مگر کیا کسی ایک شخص کو بھی گھر ملا ہے؟

اسی طرح انھوں نے کھاد، بجلی، سونے اور راشن، ادویات اور علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا کہ نواز شریف 'آپ کے ایک ایک دکھ اور تکلیف سے واقف ہے۔ میری راتوں کی نیند چلی جاتی ہے جب مجھے خیال آتا ہے کہ آپ لوگوں کے بچے بھوکے سوتے ہیں۔'

نواز شریف نے کہا کہ آج پاکستان میں وہ وقت آ چکا ہے کہ جب بچوں کے سکولوں کی فیس ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو والدین کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ بچوں کی فیسیں ادا کریں یا انھیں کھانا کھلائیں۔

سابق وزیرِ اعظم نے اس سب کے بعد حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ساری تباہی سب کا الزام کسے دیں، وزیرِ اعظم عمران خان کو یا 'اُن کو لانے والوں کو۔'

نواز شریف نے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہاں ایک ڈکٹیٹر کو آئین شکنی پر سزا ملی لیکن اُس عدالت کو بھی اُڑا دیا گیا ہوا میں، اور دوسری طرف آپ کے منتخب نمائندوں کے ساتھ ہمیشہ برا سلوک کیا جاتا ہے، کیوں؟'

'کیوں آپ کے منتخب وزیرِ اعظم کے ساتھ تضحیک آمیز سلوک کیا جاتا ہے، کیوں انھیں کام نہیں کرنے دیا جاتا، کیوں آپ کے منتخب وزیرِ اعظم کو اپنے پانچ سال پورے نہیں کرنے دیے جاتے؟ کیوں جگہ جگہ ان کے راستے میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں؟'

سابق وزیرِ اعظم نے اس موقع پر 2014 میں پی ٹی آئی کے دھرنے اور 2016 پیدا ہونے والے 'ڈان لیکس' تنازعے کا بھی حوالہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ 'کبھی دھرنا کروا کر راستہ روکا جاتا ہے، کبھی ڈان لیکس بنا کر اور کبھی ریجیکیٹڈ کہہ کر وزیرِ اعظم کے احکامات کو رد کر دیا جاتا ہے۔'

انھوں نے کہا: 'میں حیران ہوتا ہوں کہ جتنا وقت ان آئین توڑنے والوں نے سازشوں پر ضائع کیا، اس کا آدھا وقت بھی دفاع پر صرف کیا جاتا تو ملک بہت سی قباحتوں سے بچ جاتا۔'

نواز شریف نے کہا کہ پاناما کی 'سازش' کا مقصد صرف یہ تھا کہ ملک کو کمزور کیا جائے، حکومت کو گرایا جائے اور اُن (نواز شریف) کو نکلوایا جائے۔

انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں بننے والی سڑکوں اور بجلی گھروں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ سب کام تین سے چار سالوں میں کیے، اور دعویٰ کیا کہ اگر پاکستان کو اسی طرح چلنے دیا جاتا تو آج 'پاکستان اس خطے میں ترقی کا مرکز بن چکا ہوتا۔'

انھوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ یہ ترقی 'عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے والوں کو راس نہیں آئی۔'

نواز شریف نے اس سب کو اپنے 'ووٹ کو عزت دو' کے نعرے سے منسلک کرتے ہوئے عوام سے پوچھا کہ ’کیا اب انھیں معلوم ہوچکا ہے کہ 'ووٹ کو عزت دو' کی کیا اہمیت ہے؟‘

نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ تمام سیاستدانوں کو ’غدار‘ کہلایا جاتا ہے اور شروع سے فوجی آمر سیاست دان جیسے فاطمہ جناح، باچا خان، شیخ مجیب الرحمان اور دیگر رہنماؤں کو غدار قرار دیتے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'ڈھاکہ میں جنرل نیازی نے دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کھلے عام انتہائی ذلت آمیز طریقے سے ہتھیار ڈالے لیکن غدار کون ہے؟ سیاستدان۔ غدار کون ہے؟ نواز شریف، غدار کون ہے؟ محترمہ بینظیر بھٹو، غدار کون ہے؟ ولی خان، غدار کون ہے؟ اکبر بُگٹی، یا پھر محمود خان اچکزئی جو ہمیشہ دستور اور آئین کی بات کرتا ہے۔'

نواز شریف نے سیاستدانوں پر غداری کے الزامات لگائے جانے پر کہا کہ ’پاکستان میں محب وطن کہلائے جانے والے وہ ہیں جنھوں نے آئین کی خلاف ورزی کی اور ملک توڑا۔‘

،تصویر کا کیپشن

نواز شریف پاناما کیس میں بننے والی جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ ان کے خلاف سازش تھے

نواز شریف نے اپنی تقریر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ' یہ سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، آپ کو نواز شریف کو غدار کہنا ہے ضرور کہیے، اشتہاری کہنا ہے ضرور کہیے، نواز شریف کے اثاثے جائیداد ضبط کرنا ہے ضرور کریں، جھوٹے مقدمات بنوانے ہیں بنوائیے لیکن نواز شریف مظلوم عوام کی آواز بنتا رہے گا، نواز شریف عوام کو ان کے ووٹ کی عزت دلوا کر رہے گا۔'

انھوں نے اپنی تقریر میں الزام لگایا کہ پاکستان میں انتخابات میں مینڈیٹ کو ’چوری‘ کیا گیا اور ’دھاندلی‘ کی گئی۔

انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام کا ووٹ کس نے چوری کیا، انتخابات میں کس نے دھاندلی کی؟ جو ووٹ آپ نے ڈالا تھا وہ کسی اور کے ڈبے میں کیسے پہنچ گیا؟ رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس کس نے بند کیا؟ نتائج کیوں روکے رکھے گئے؟ اور ہاری ہوئی پی ٹی آئی کو کس نے جتوایا؟ عوام کے ووٹ کی امانت میں کس نے خیانت کی؟ کس نے سلیکٹڈ حکومت بنانے کے لیے ہارس ٹریڈنگ کا بازار دوبارہ کس نے گرم کیا؟'

انھوں نے براہِ راست جنرل باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے 'ہماری اچھی بھلی چلتی ہوئی حکومت کو رخصت کروایا، ملک و قوم کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھایا، ممبرانِ پارلیمنٹ کی خرید و فروخت جس سے ہم عرصہ دراز سے جان چھڑوا چکے تھے، دوبارہ آپ نے شروع کروائی، ججوں سے زور زبردستی سے فیصلے آپ نے لکھوائے، انصاف کرنے کے جرم میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تمام اقدامات آپ کی ایما پر کیے گئے۔'

،تصویر کا کیپشن

نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف اقدامات جنرل باجوہ کی ایما پر کیے گئے

انھوں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ آپ نے الیکشنز میں عوام کے انتخاب کو رد کر کے 'اپنی مرضی کا نااہل ٹولہ قوم پر مسلط کیا' اور کہا کہ اس کے 'نتیجے میں ہونے والی بربادی کے آپ ہی ذمہ دار ہیں۔'

'جنرل باجوہ صاحب، جواب آپ کو ہی دینا پڑے گا، بجلی کا بل بجلی بن کر غریب پر گر رہا ہے، باجوہ صاحب جواب آپ کو دینا ہوگا۔'

انھوں نے کہا کہ آج پاکستان میں 'غریبوں کے بہتے ہوئے آنسوؤں کے ذمہ دار آپ ہیں باجوہ صاحب، جواب آپ کو دینا ہوگا۔ ان ہنستے مسکراتے چہروں پر اداسی ہے، ویرانی ہے، پریشانی ہے، باجوہ صاحب جواب آپ کو دینا ہوگا۔'

انھوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ سب کچھ آپ کو ہاتھوں سے ہوا ہے، جواب بھی آپ کو دینا ہوگا۔'

انھوں نے اپنی تقریر میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ اور وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی برائے میڈیا لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کے خلاف حال ہی میں لگنے والے الزامات کا بھی ذکر کیا۔

انھوں نے سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ پر آئین شکنی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا: 'جنرل عاصم سلیم باجوہ جو پاکستان کی حکومت گرانے، بلوچستان کی حکومت گرانے، اور سینیٹ کے انتخابات چوری کرنے کے جرم میں سنگین غداری یعنی آرٹیکل چھ کا مجرم بھی ہے، اس کے بے حساب اثاثے سامنے آ چکے ہیں مگر کوئی تفتیش شروع نہیں ہو سکی، اس حکومت کے ہوتے ہوئے شاید ہو گی بھی نہیں۔ نیب کا وطیرہ تو الزام اور ثبوت کے بغیر ہی اٹھا کر لے جانا ہے، یہ شخص کیوں کھلے عام دندناتا ہوا پھر رہا ہے۔'

انھوں نے عاصم سلیم باجوہ کے بارے میں کہا کہ وہ 'کس منہ سے' سی پیک اتھارٹی کے سربراہ بنے ہوئے ہیں۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ آئین سے انحراف صرف مارشل لا کی شکل میں نہیں ہوتا، ہر آئین شکنی انتہا درجے کی سنگین ہوتی ہے، لہٰذا 'جب زبردستی میڈیا کا منہ بند کر دیتے ہیں، یہ بھی آئین شکنی ہے، جب آپ کیبل آپریٹرز کو ہراساں کر کے اپنی مرضی کے چینل چلواتے ہیں تو یہ بھی آئین شکنی ہے، جب آپ ججوں سے زبردستی من پسند فیصلے لکھواتے ہیں، تو یہ بھی آئین شکنی ہے، آپ عوام کا مینڈیٹ چوری کرتے ہیں اور ایک نااہل ترین شخص کو وزیرِ اعظم بنوا دیتے ہیں تو یہ بدترین آئین شکنی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'آئین توڑنے والے شخص کے ساتھ ساتھ وہ تمام لوگ بھی آئین شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں جو اس کی مدد کرتے ہیں یا اس کا حکم مانتے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو تمام مسائل کے ذمہ دار ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں اپنے مفادات کے لیے خاطر پاک فوج کو متنازع کرتے ہیں۔

انھوں نے وزیرستان اور اورماڑہ میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے میں پاکستانی فوج کے اہلکاروں کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ قوم کی اور فوج کی عزت بناتے ہیں۔

نواز شریف نے براہِ راست وزیرِ اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا وہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا 'این آر او' لے کر پاک و صاف ہوگئے ہیں؟

انھوں نے عمران خان سے کہا کہ انھیں بنی گالہ اور لاہور کے زمان پارک میں اربوں کی جائیداد کی رسیدیں دینی پڑیں گی۔ انھوں نے عمران خان کو پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنی جماعت کے رہنما اس کے گواہ ہیں، اور وہ اس سے بچ نہیں سکتے۔

'صفحہ تبدیل ہوتے وقت نہیں لگتا' : مریم نواز

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'عمران خان آج تمام اداروں کے ایک صفحے پر ہونے کا کہتے ہیں، یاد رکھو صفحہ تبدیل ہوتے وقت نہیں لگتا۔'

انھوں نے ملک میں مہنگائی اور بیروز گاری کے حوالے سے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'آج ملک میں معاشی بدحالی ہے، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور میں آج عوام کا مقدمہ لے کر یہاں آئی ہوں۔'

انھوں نے ملک میں گیس اور بجلی کے بحران کا ذمہ دار وزیر اعظم عمران کی حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’آج ملک سے آٹا چینی دال غائب ہے اور حکمرانوں کو عوام کی فکر نہیں۔'

مریم نواز نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ’آئین اور قانون کی پاسداری کرنے والی عدلیہ پر دباؤ اور میڈیا کو زبان بندی کا سامنا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں عوام کے ووٹ سے حکومت آنی چاہیے اور عوام کے ووٹ سے حکومت جانی چاہیے۔‘

' اب سلیکٹیڈ اور سلیکٹرز کو ہمارے صفحے پر آنا پڑے گا': بلاول بھٹو زرداری

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'آل پارٹیز کانفرنس نے پاکستان کے تمام حقیقی نمائندگان کو ایک صفحے پر اکٹھا کر دیا، اب سلیکٹیڈ اور سلیکٹرز کو ہمارے صفحے پر آنا پڑے گا ورنہ انھیں جانا پڑے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'سلیکٹرز کو بھی آج عوام کی طاقت اور فیصلے کو تسلیم کرنا پڑے گا۔'

انھوں نے تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے 'پارلیمان کو ربڑ سٹیمپ بنا کر رکھ دیا ہے، پارلیمان میں دھاندلی سے قانون پاس کروائے جا رہے ہیں۔ اگر اس ملک میں کوئی کرپٹ ہے تو یہ سلیکٹیڈ حکومت اور نالائق حکمران ہیں۔'

انھوں نے ملک میں مہنگائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ کیسی تبدیلی ہے کہ آج پاکستان میں تاریخی مہنگائی، بیروزگاری اور غربت ہے۔ ملک میں آٹا، چینی، ادویات، گیس اور بجلی کا بحران ہے اور حکومت اس کی ذمہ داری گذشتہ حکومت پر ڈالتی ہے۔'

وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 'عمران خان کے پاس ان مسائل کا حل ٹائیگر فورس ہے، کورونا ہے تو ٹائیگر فورس، سیلاب ہے تو ٹائیگر فورس، مہنگائی ہے تو ٹائیگر فورس۔'

انھوں نے اپنے دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'پرویز مشرف نے بھی ملک کو دہشت گردی اور بجلی کے بحران میں چھوڑا تھا لیکن ہم نے عوام کو لاوارث نہیں چھوڑا، ہم نے ملک کی غریب خواتین کے لیے انقلابی منصوبہ بے نظیر انکم سپورٹ کارڈ کا اجرا کیا، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا۔'

حکومت کے کرپش کے بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'عمران خان نے ملک میں کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کیا اور ملک میں کرپشن کا ریکارڈ قائم کر دیا، پارٹی فنڈنگ کیس ہو، عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کا معاملہ ہو، پشاور بی آرٹی میں کرپشن کے الزامات، بلین ٹری منصوبے میں کرپشن ہو لیکن کوئی ازخود نوٹس نہیں لیتا، کوئی ان سے نہیں پوچھتا۔'

انھوں نے ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بھی تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کی۔

'فوج سے لڑائی نہیں اگر وہ سیاست میں مداخلت نہ کریں': مولانا فضل الرحمان

پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم پاکستان کے اداروں کا احترام کرتے ہیں، فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں لیکن اگر دفاع کی ذمہ داری کے علاوہ آپ سیاست میں دخل اندازی کرتے ہیں، اپنی نگرانی میں انتخابات کرواتے ہیں، مارشل لا لگاتے ہیں، آئین کی پامالی کرتے ہیں تو آپ کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا ہمارا نہیں تو کس کا کام ہے۔'

انھوں نے ملکی اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'سلیکٹیڈ کے سلیکٹرز کہتے ہیں کہ ہمارا نام نہیں لینا، کیوں نہ لیں آپ کا نام آپ نے جمہوریت کو بیچ چوراہے پر قتل کیا ہے۔ کیا سلیکٹرز اپنے سلیکٹیڈ کی کارکردگی سے خوش ہیں؟'

ان کا کہنا تھا کہ 'سیاست میں اداروں کی مداخلت ختم ہونی چاہیے، وہ اپنی غلطی تسلیم کر لیں اور قوم سے معافی مانگیں تو ہی بات ہو گی۔ اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے سے ملک نہیں چلا کرتے۔ اگر ملک چلانا ہے تو تمام اداروں کو اپنی حدود کا تعین کرنا ہے۔'

مولانا فضل الرحمان نے جمعے کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی شرکت کے دوران اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی کرنے پر اجلاس سے واپس چلے جانے کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'آج سے پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک شروع ہو گئی ہے اور حکومت دسمبر نہیں دیکھ سکے گی، آج حکومت کے اوسان خطا ہو چکے ہیں، آج اپوزیشن کے پندرہ ممبران اسمبلی نے پارلیمان میں اکثریت کے دعوے دار کو بھگا دیا ہے۔'

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 'آج ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہیں، جے یو آئی نے ہمیشہ فرقہ وارانہ رویوں کی نفی کی ہے، ہم ملک کو فرقہ واریت کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیں گے۔'

اس سے قبل اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ نواز کی مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد جلسہ گاہ پہنچے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری نے لالہ موسیٰ سے گوجرانوالہ کا سفر طے کیا جس سے کچھ ہی دیر قبل مریم نواز کا کاروان لاہور سے سات گھنٹے کے سفر کے بعد جناح سٹیڈیم پہنچا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف ملک کی نو بڑی اور چھوٹی اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد کیا ہے۔

جلسے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی، سینئر رہنما احسن اقبال، خرم دستگیر، عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار، نیشنل پارٹی کے عبدل مالک بلوچ، پیپلز پارٹی کے سردار لطیف کھوسہ اور راجہ پرویز اشرف نے بھی خطاب کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے کہا ہے کہ نواز شریف کی حکومت نے ملک سے دہشت گردی ختم کی ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں مہنگائی سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو موجودہ حکومت سے نجات حاصل کرنا ضروری ہو گا۔

جلسہ گاہ پہنچنے سے قبل رکاوٹیں

جلسہ گاہ تک سفر کے دوران اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کو کنٹینرز کی صورت میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے کو حکومت کی جانب سے احتیاطی تدابیر کے ساتھ مشروط اجازت دی گئی تھی لیکن ساتھ ہی ’قانون توڑنے والوں کے خلاف کارروائی‘ کے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے۔

جلسے میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام (ف) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور ریلیاں گوجرانوالہ میں واقع اقبال سٹیڈیم پہنچی تھیں۔

اس دوران حکومتی رہنماؤں کی جانب سے جلسے کے خلاف سخت موقف اپنایا گیا اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گِل نے اس جلسے کو ’انڈین مفادات‘ کا حصہ بتاتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’آخر انڈیا اور ڈاکو موومنٹ کیوں ایک پیج پر ہیں؟‘

راستوں میں رکاوٹیں اور کنٹینرز

پی ڈی ایم کے 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ہونے والے جلسے سے قبل اہم سیاسی رہنماؤں کے گھروں کے باہر کنٹینرز لگائے گئے جبکہ دیگر شہروں کو گوجرانوالہ سے ملانے والے راستوں پر بھی رکاوٹیں موجود رہی۔

جلسے سے قبل لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے مسلم لیگ ن کے ماڈل ٹاون سیکرٹریٹ اور شہباز شریف کی رہائش گاہ کے باہر کنٹینر لگا کر ان علاقوں کو سیل کر دیا۔ جبکہ گوجرانوالہ میں لیگی رہنما اور سابق وزیر دفاع خرم دستگیر کے گھر کے باہر بھی کنٹینرز لگا دیے گئے تھے۔

جلسے کے لیے پنجاب کے دوسرے شہروں سے بھی مسلم لیگ نواز کے قافلے آئے تھے۔ لیگی رہنما خواجہ عمران نذیر کے مطابق لاہور سے اراکین صوبائی اسمبلی جماعت کی نائب صدر مریم نواز کی ریلی کے ہمراہ آئے تھے۔

بی بی سی اُردو کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق گوجرانوالہ میں 31 مقامات کو کنٹیرز لگا کر سیل کیا گیا جبکہ لاہور میں رنگ روڈ کو بھی بلاک کیا گیا ہے جس سے موٹر وے تک رسائی مشکل ہو گئی تھی۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے والد کی عدم موجودگی میں خود کو ان کا ’سپاہی‘ قرار دیا تھا۔

سڑکوں پر کنٹینرز اور رکاوٹوں کی اطلاعات پر انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ: ’اتنا ڈر؟ وہ بھی ایک نہتی لڑکی سے؟‘

مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت ’ہر ممکنہ حد تک لوگوں کو جلسہ گاہ پہنچنے سے روک رہی ہے۔۔۔ پورے پنجاب میں کنٹینرز لگا کر راستے بلاک کر دیے گئے ہیں۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’تمام بینرز اور فلیکس پنجاب حکومت پہلے اتار چکی ہے۔‘

’حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا‘

جلسے سے قبل تحریک انصاف کے صوبائی وزرا کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس کا کہنا تھا کہ ’غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والوں سے اداروں کا استحکام برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔ جمہوری روایات سے نابلد افراد کے اکٹھ سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘

’کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے۔ سیاسی بے روزگار اپنی روزی روٹی کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشن

جلسہ گاہ میں سیاسی جماعتوں کے کارکن پہنچنا شروع ہو چکے ہیں

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن نے اعلان کیا تھا کہ ریلی کو جہاں روکا گیا تو ’وہاں پر ہی دھرنا دیا جائے۔‘

پی ڈی ایم میں کون سی جماعتیں شامل، اس کا مقصد کیا ہے؟

پاکستان کی حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں نے پی ڈی ایم کے نام سے ایک حکومت مخالف اتحاد قائم کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی اس میں پیش پیش ہیں جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کو اس احتجاجی تحریک کا ایک اہم کردار تصور کیا جا رہا ہے۔

حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی حکومت مخالف آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے بعد تیار کردہ ایکشن پلان میں جنوری میں لانگ مارچ کا اعلان کرنے کے ساتھ اسٹیبلیشمنٹ سے سیاست میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم نے اعلان کیا تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ کے جلسے سے ہو گا۔ 18 اکتوبر کو کراچی میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا جبکہ 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں جلسہ منعقد ہو گا۔